عمران خان پر حملہ کرنے والے ملزم نوید کو مارنے کے لیے شوٹر بھیجا گیا تھا، فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملہ کرنے والے ملزم نوید کو مارنے کے لیے شوٹر بھیجا گیا تھا تاکہ تمام شواہد مٹا دیے جائیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کا دعویٰ ہے کہ قاتلانہ حملے کو مذہبی رنگ دینے کے لیے ملزم نوید کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ریلی کے دوران مشتبہ نوید کو مارنے کے لیے ایک شوٹر بھیجا گیا تھا۔

فواد چوہدری نے عمران خان پر حملے کی فرانزک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا کارکن ’شوٹر کی گولی‘ سے شہید ہوا، جسے ملزم نوید کو مارنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

“تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تین مشتبہ افراد نے سابق وزیر اعظم پر گولیاں چلائیں،” انہوں نے مزید کہا کہ ‘پہلے سے منصوبہ بند حملے’ کا واحد مقصد عمران خان کو قتل کرنا تھا۔

وزیر آباد حملے کے پیچھے ‘مذہبی جنونیت’ پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ یہ معاملہ 24 اگست 2022 کو شروع ہوا، “صحافی وقار سیٹھی نے ایک ٹویٹ میں خان پر توہین مذہب کا الزام لگایا،” انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں وفاقی وزراء بشمول رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب نے حملے کو مذہبی انتہا پسندی کا واقعہ قرار دیا۔

عمران خان پر حملہ کرنے والا ملزم نوید

اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ قاتلانہ حملے کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تین ملزمان نے سابق وزیر اعظم پر گولیاں چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے گارڈز کی جانب سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی جب کہ ان کے ہتھیاروں کی فرانزک کرائی گئی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حملے کے فوراً بعد ایک اعترافی ویڈیو جاری کی گئی جسے کئی سیاستدانوں اور صحافیوں نے شیئر کیا، انہوں نے مزید کہا کہ سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) گجرات نے ڈی پی او کی ہدایت پر ویڈیو ریکارڈ کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) تفتیش کا حصہ نہیں بن رہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ڈی پی او کو تحقیقات کا حصہ بننے سے کون روک رہا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قاتلانہ حملے کے دوران گجرات میں سیکورٹی بھی ناکافی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو ریکارڈ اور دستاویزات پیش کرنے سے کون روک رہا تھا’۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان اپنے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی طرف لے جاتے ہوئے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے۔

عمران خان کو ایک گولی ٹانگ میں لگی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ عمران خان پر فائرنگ کے بعد صدر عارف علوی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سربراہ پر حملے کی مذمت کی۔ پاک فوج نے بھی سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں