اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹ کیس میں سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت منظور کرلی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینئر اسٹیبلشمنٹ حکام کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت منظور کرلی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے متنازع ٹویٹ کیس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ میں ان کا نام نہیں بتاؤں گا لیکن ایک سیاسی شخصیت طبی وجوہات کی بنا پر ضمانت پر ہے اور ان سے ملنے کے لیے ایک اور سیاسی جماعت کے رہنما کو ضمانت ملی ہے۔

یہاں ایک بات یاد رہے اعظم سواتی کو دوسری مرتبہ 27 نومبر 2022 کو سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سمیت اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اعظم سواتی نے اداروں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میں ڈی جی آئی ایس آئی یا جنرل باجوہ کے خوف سے نہیں ہٹوں گا کیونکہ میری عزت پر سمجھوتہ کیا گیا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ وہ سابق چیف جنرل باجوہ کے خلاف غیر اخلاقی الفاظ ٹویٹ کرنے پر سلاخوں کے پیچھے تھے۔

آج کی IHC کی کارروائی:

آج کے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی موجودگی کے بغیر کیس کی سماعت کی۔ اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان اپنے موکل کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔

اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اعظم سواتی کا بیٹا عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتا ہے۔

سواتی کے بیٹے نے کہا کہ میرے والد نے خط لکھا تھا، میں عدالت کی اجازت سے پڑھنا چاہتا ہوں۔

اس پر جسٹس فاروق نے کہا کہ خط عدالت میں موجود ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے ایک بڑی بینچ تشکیل دی جائے گی۔ اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ عدالت اس معاملے کو آج دیکھ لے جس پر عدالت نے کہا کہ آج لارجر بینچ نہیں بن سکتا۔

دریں اثنا، سواتی کے بیٹے نے آئی ایچ سی کے چیف جسٹس کے خلاف اپنا عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔

عدالت نے چالان کی پوزیشن کے بارے میں استفسار کیا جس پر فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی (ایف آئی اے) نے جواب دیا کہ چالان 24 دسمبر 2022 کو جمع کرایا گیا، سماعت 3 جنوری کو ہوگی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر نے دوبارہ جرم کیا ہے اور مقدمہ پہلے ہی زیر التوا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ سرنڈر نہیں کیا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی نے خود جسمانی ریمانڈ ختم کیا۔

“کیا چھیڑ چھاڑ کا کوئی امکان ہے؟” عدالت نے ایف آئی اے حکام سے پوچھ گچھ کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس پر ایف آئی اے کے ریمارکس کیا ہیں؟ اس پر ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر نہیں آسکے اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ سماعت ملتوی کی جائے۔

اس پر ایف آئی اے نے کہا کہ اعظم سواتی نے ٹویٹ کی تردید نہیں کی۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے متنازعہ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں