سپریم کورٹ نے ای سی پی کو عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹسز کو چیلنج کرنے والے مختلف ہائی کورٹس میں دائر مقدمات کی منتقلی اور ان کو یکجا کرنے کے لیے ای سی پی کی درخواست کی سماعت کی۔

آج کی کارروائی کے دوران، سپریم کورٹ نے ای سی پی سے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی جاری رکھے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا کہ ‘ای سی پی پی ٹی آئی کے اعتراضات پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے’ اور مزید کہا کہ ‘سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے ای سی پی کو عمران اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے نہیں روکا’۔

سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اس کی کارروائی پر حکم امتناعی کیسے دیا جا سکتا ہے۔

ای سی پی نے اپنی درخواستوں میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو ای سی پی کے توہین عدالت کے نوٹسز کے خلاف ہائی کورٹس کی جانب سے جاری حکم امتناعی کو ختم کیا جائے۔

ای سی پی نے اپنی چھ درخواستوں میں سپریم کورٹ پر زور دیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف اپنے تمام توہین عدالت کیسز کو مختلف ہائی کورٹس سے ایک ایک میں منتقل کرے۔

کمیشن نے دلیل دی کہ اس نے اگست اور ستمبر کے مہینوں میں پی ٹی آئی چیئرمین اور معزول وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ دیگر پارٹی رہنماؤں بشمول اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔ تاہم ان نوٹسز کو ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں