مشہور مصنف اور انسان دوست قاسم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو اسکول میں تنگ کیا گیا ہے۔

معروف موٹیویشنل سپیکر اور مصنف سید قاسم علی آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف بے دردی سے ٹرول ہو رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

قاسم علی شاہ کی جانب سے الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کرنے کے ایک دن بعد ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں قاسم علی شاہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔

ویڈیو میں موٹیویشنل سپیکر نے پی ٹی آئی عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے پچھلے 3 سالوں میں کیا کیا؟ وہ یہ بھی کہ ان افراد کو منتخب نہ کریں جنہوں نے آپ کو امید دی۔ اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کے حامی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے قاسم علی شاہ پر الزام لگایا کہ وہ اپوزیشن کے کہنے پر عمران خان کے بیان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، قاسم علی شاہ کے یوٹیوب چینل کو ان سبسکرائب کرنے اور ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ان فالو کرنے کی مہم بھی شروع ہوگئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی تنقید کے باعث موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کی ریٹنگ میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔

عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے پر سوشل میڈیا صارفین نے قاسم علی شاہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن جس کی گوگل پر ریٹنگ 4.3 تھی، عمران خان پر تنقید کے بعد تیزی سے 1.1 پر آگئی۔ قاسم علی شاہ بھی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

اب آج قاسم علی شاہ کی جانب سے ایک اور ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو اسکول میں غنڈہ گردی کی گئی ہے۔ قاسم علی شاہ نے بتایا کہ صبح ساڑھے 10 بجے بیٹے کا فون آیا۔ قاسم علی شاہ بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو سکول میں تنگ کیا گیا، ان کے بیٹے کے دوستوں نے ان سے پوچھا کہ ان کے والد نے کیا کیا؟ اس نے کہا میں نے کیا جرم کیا ہے کسی کا درد سمجھنے کی کوشش کرو۔

واضح رہے کہ سید قاسم علی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو آپس میں جوڑتے ہوئے آئندہ عام انتخابات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

جس پر پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے قاسم علی شاہ کو یقین دلایا کہ انہیں موقع ملنے پر ٹکٹ دیا جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Author

  • Muhammad Amir

    Muhammad Amir is working with Burj News as Senior Writer

    https://urdu.burjnews.com/author/mamirsalarzai/ mamirsalarzai@urdu.burjnews.com Amir Muhammad

اپنا تبصرہ بھیجیں