ای ٹی پی بی اور ایف آئی اے نے شیخ رشید کی لال حویلی کے سات یونٹس سیل کر دیئے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) اور ایف آئی اے نے پیر کو عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل) کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کے سات یونٹس کو سیل کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق ای ٹی پی بی کا عملہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ عدالت کے حکم پر شیخ رشید کی رہائش گاہ کو سیل کرنے کے لیے پہنچا۔

ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک بورڈ آصف خان نے آپریشن کی قیادت کی۔ آصف خان نے کہا کہ شیخ رشید اور ان کے بھائی شیخ صدیق نے لال حویلی کی سات ایکڑ اراضی پر ’غیر قانونی‘ قبضہ کر رکھا ہے۔

ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کے مطابق شیخ رشید اور ان کے بھائی عدالت کو متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے شیخ رشید کا لال حویلی خالی کرانے کی کارروائی پر حکم امتناعی بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنی رہائش گاہ سیل کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ لال حویلی کی مہر اپنے ہاتھوں سے توڑ دیں گے۔

اس سے قبل 26 جنوری 2023 کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹیز بورڈ (ای ٹی پی بی) نے شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو 24 گھنٹوں کے اندر خالی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اب تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ شیخ رشید متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کی طرف سے لال حویلی سیل کرنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ لال حویلی جو راجہ بازار راولپنڈی میں واقع ہے تقسیم ہند سے قبل ایک ہندو خاتون کی تھی اور 1980 میں شیخ رشید کے پارلیمانی سیاست میں آنے کے بعد اسے سیاسی دفتر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں