شب برأت ۔۔۔ بخشش و مغفرت کی رات

ماہ شعبان کی پندرہویں رات کوشب برأت کہاجاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے اورقطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کوشب برأت کہتے ہیں‘ اس رات کو لیلتہ المبارکہ یعنی برکتوں والی رات لیلتہ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلتہ الرحمة رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہاجاتا ہے ۔

 حضرت عکرمؓہ اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ’’لیلة  المبارکہ‘‘ سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔اس رات میں زندہ رہنے والے ‘فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اس روایت کوابن جریر‘ابن منذر اورابن ابی حاتم نے بھی لکھا ہے‘اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ نمبر 194)

علامہ قرطبی مالکیؒ بیان کرتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوح محفوظ سے نقل کرنے کاآغاز شب برأت سے ہوتا ہے اوراختتام لیلتہ القدر میں ہوتاہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 128)

یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر ان شب میں ان کے لکھے جانے کا کیامطلب ہے ؟جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ میں تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کر کے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا “کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ “میں نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ فرمائیے ۔ ارشاد ہوا” آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتا ہے “۔ (مشکوٰۃ جلد 1 صفحہ 277)

حضرت عثمان بن محمدؓے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا “ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کانام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے”۔(الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 126)(شعب الایمان بیہقی جلد 3 صفحہ 386)

چونکہ یہ رات گزشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے واالی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میں عبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کاباعث ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں