سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندو خیل سے منسوب جھوٹی خبر کی حقیقت سامنے آگئی

سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے ایک سماعت کے دوران جو جھوٹی خبریں کہی تھیں وہ ان صحافیوں نے تیزی سے پھیلائی جو کمرہ عدالت میں نہیں تھے۔

بعد میں اسے ان سے منسوب کیا گیا اور کہا گیا کہ عدالت کا فیصلہ تین یا چار ممبران کریں گے۔ تاہم کورٹ روم 1 میں موجود صحافی وحید مراد کا کہنا ہے کہ جسٹس مندوخیل نے صرف دو سوال پوچھے۔

پہلا اس بارے میں تھا کہ الیکشن کمیشن الیکشن کی تاریخ طے کرنے کے لیے کس اتھارٹی کے پاس جائے گا اور دوسرا اس بارے میں تھا کہ انتخابات کے انعقاد کی وجوہات کا تعین کس کو کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ سوالات اٹھانے پر جسٹس مندوخیل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اہم ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں