عدالتی اصلاحات بل قائمہ کمیٹی کو ارسال قومی اسمبلی کا اجلاس کل تک ملتوی

قومی اسمبلی نے جوڈیشل ریفارمز بل خصوصی کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس کل صبح تک ملتوی کر دیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ایک نئے قانون پر بحث کے لیے ہوا جس سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی۔ نیا قانون لوگوں کو فیصلہ موصول ہونے کے 30 دنوں کے اندر اپیل دائر کرنے کی اجازت دے گا، اور درخواست دائر کرنے کے 14 دنوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جانی چاہیے۔

وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز آئین اور قانون کے تابع ہونگے۔ عدالتی تاریخ دیکھیں تو 184/3 پر بہت زیا دہ تنقید رہی ہے، سب سے زیادہ بار باڈیز کی طرف سے 184/3 پر تنقید کی جاتی رہی ہے، وہ دور بھی دیکھا جب معمولی معمولی باتوں پر سوموٹو نوٹس لیے گئے، اپیل کا حق مجوزہ بل میں دینا ضروری سمجھا گیا ہے۔

اعطم نذیر تارڑ نے کہا کہ  گزشتہ روز ججز کے موقف نے تشویش کی لہر پیدا کر دی، اندیشہ پیدا ہوا کہ فرد واحد کے اختیار سے اعلیٰ عدلیہ کو نقصان نہ پہنچے، بل کے تحت چیف جسٹس کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین جج از خود نوٹس کا فیصلہ کریں گے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے بروز بدھ 29 مارچ کو اراکین کا اجلاس طلب کرلیا، جس میں عدالتی اصلاحات ترمیمی بل کی منظوری دی جائے گی، اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی محمود بشیر ورک کریں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Author

اپنا تبصرہ بھیجیں