رجسٹرار سپریم کورٹ کی خدمات واپسلے لی گئیں

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں رجسٹرار سپریم کورٹ کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام سرکاری افسران کو اجلاس چھوڑنے کو کہا گیا۔

کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ الیکشن کیس پر غور کیا گیا۔ کچھ معاملات جن پر بات کی گئی ان میں فیصلے کے ممکنہ اثرات اور اگر انتخابات کا فیصلہ کسی ایک پارٹی یا دوسری پارٹی کے حق میں ہو جائے تو حکومت کیا اقدامات کر سکتی ہے۔ اس وقت میٹنگ میں صرف وزراء موجود تھے اور جلد ہی سب چلے گئے۔

 وفاقی کابینہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو واپس بلانے کی منظوری دی۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ جسٹس فائز عیسٰی کے خط پررجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو واپس بلانے کی منظوری دی گئی۔

واضح رہے کہ رجسٹرارسپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز کا کہنا تھا کہ میرے لیے حیران کن تھا کہ آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سرکلر جاری کردیا، سپریم کورٹ کے حکم کے اوپر رجسٹرار سرکلر جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا، سرکلر کے ذریعے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں