چین میں رشوت لینے پر سپریم کورٹ کے جج کو 12 سال قید کی سزا سنادی گئی

چین میں ایک جج کو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران رشوت لینے کے جرم میں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جج مینگ ژیانگ کو رشوت لینے کا اعتراف کرنے پر 2 ملین یوآن جرمانہ کیا گیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ مینگ نے اپنے عہدے اور طاقت کا استعمال دوسروں کی مدد کرنے، کمپنیوں کے لیے احسان کرنے اور عدالت اور پولیس فورس میں فیصلے کرنے میں مدد کرنے کے عوض رشوت لینے کے لیے کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 58 سالہ مینگ کو دو سال قبل عدالتی اور لینڈ انفورسمنٹ کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والی ‘خود اصلاح’ مہم کے ایک حصے کے طور پر زیر تفتیش رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ملک کے نظام انصاف میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک کام کیا۔ انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز  بیجنگ کی مقامی ضلعی عدالت میں بطور کلرک شروع کیا۔ وہ عدالتی نظام میں اہم عہدوں پر تعینات رہے جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں