جولائی میں ملک بھر میں انتخابات ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جولائی میں ملک بھر میں انتخابات ہو سکتے ہیں پنجاب میں فصلوں کی کٹائی اور حج کے بعد انتخابات کی تاریخ رکھ لیں۔

سپریم کورٹ میں ملک بھر میں بیک وقت عام انتخابات سے متعلق درخواست کی سماعت دوسرے روز بھی جاری ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے اور عدالت نے سماعت میں آج شام چار بجے تک وقفہ کیا ہے۔ اب تک کی سماعت میں ملک کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے عدالت میں پیش ہوکر اپنا موقف پیش کیا۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل عثمان انور، درخواست گزار کے وکیل شاہ خاور اور سیاسی جماعتوں کے وکلا بھی پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ 14 مئی ہے۔ عدالتی فیصلے کو اگنور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔ عدالت اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی۔ عدالتی فیصلے ہٹانے کا طریقہ کار ہے وہ 30 دن بھی گزر گئے۔ کسی نے عدالتی فیصلہ چیلنج نہیں کیا۔ آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا اور اور یقین ہے کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلےکے خلاف نہیں جانا چاہتا ۔

چیف جسٹس نے سیاسی جماعتوں کو آج شام 4 بجے تک سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے متعلق مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ 4 بجے دوبارہ کیس کی سماعت کریں گے۔ مشاورت کرکے چار بجے تک عدالت کو آگاہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک تجویز ہے کہ عدالت کارروائی آج ختم کر دے۔ تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔ آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی۔ آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اسکی تشریح نہیں کی گئی۔ 1970 اور 1971 کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے۔ سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے، بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے۔ اسمبلی میں ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی۔ حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی لیکن یاد رکھنا چاہیےکہ عدالتی فیصلہ موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی۔ دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے اچھی کوشش کی ہے لیکن گزارش ہو گی پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں۔ جولائی میں بڑی عید ہوگی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں اور عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے۔

جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عید کے دوران بھی مولانا فضل الرحمان سے بات کریں گے۔

اس سے قبل آج صبح جب چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآن پاک کی تلاوت سے سماعت کا دوبارہ آغاز کیا اور کہا کہ مولا کریم ہمیں نیک لوگوں میں شامل کردیں اور پچھلے ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں انہوں نے اچھا اور نیک  کام شروع کیا۔ ہم اس کام میں آپ کے لیے دعاگو ہیں کہ کامیاب ہوں اور توقع ہے مولانا فضل الرحمان بھی لچک دکھائیں گے۔

وزارت داخلہ کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں۔ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے۔ مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صف اول کی سیاسی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے جس پر میں ان کا مشکور ہوں۔ قوم میں اس وقت اضطراب ہے، قیادت یہ مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا۔ کیونکہ عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں سیاسی قائدین افہام وتفہیم سے مسئلہ حل کرے تو برکت ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں۔ درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نذرہوگیا۔ فاروق ایچ نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں۔ ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے۔ عدالت دو مرتبہ 90 دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات پر کام شروع کرچکی ہیں۔ بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ہے اور عید کے فوری بعد سیاسی ڈائیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے۔

پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو۔ کوشش ہوگی کہ ان ڈائیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو۔ الیکشن ایک ہی دن اور جتنی جلدی ممکن ہو ہونے چاہئیں۔ ملک بھر میں نگراں حکومتوں کے ذریعے انتخابات ہونے چاہئیں جب کہ سیاسی معاملات پارٹیوں کے درمیان طے ہونے چاہئیں۔ سیاسی معاملے میں کسی ادارے کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

فاروق نائیک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آج پارٹی ٹکٹ جمع کروانے کا آخری دن ہے۔ عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن تاریخ نہیں بڑھا سکتا۔ پارٹی ٹکٹ کے لیے وقت میں اضافہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا۔ الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کیلیے با اختیار ہے۔ پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر وہ شیڈول تبدیل کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن رجوع کرے تو عدالت اس موقف سن لے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں