عید کی چھٹیوں کے بعد آگ بھڑکانے کا پلان ہے، وزیر قانون

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ نظریہ ضرورت کے فیصلوں میں عدالتوں نے ملک کا نقصان کیا اب مستقبل کےایونٹس کی پلاننگ کی جا رہی ہے اور عید کی چھٹیوں کے بعد آگ بھڑکانے کا پلان ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور سینیئر ترین وکیل کی آڈیو ٹیپ اہم معاملہ ہے۔ کوششیں کی جا رہی ہے کہ توہین عدالت ہو جائے اور ادارے و پارلیمان آمنے سامنے آجائیں۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آج کل ٹیکنالوجی اور ہیکنگ کا زمانہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کےدور میں چیزوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ سارے تانے بانے عدالتی فیصلوں سے ملتے ہیں۔ سیاسی باتیں سیاسی ایوانوں میں ہی ہوسکتی ہیں، سیاسی چیزیں عدالتوں میں ہوں گی تو یہی ہوگا۔ عدالت میں ایک پارٹی ہارے گی اور ایک جیتے گی مگر عدالت تو مکمل ہارے گی۔

اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ نظریہ ضرورت کے فیصلوں میں عدالتوں نے ملک کا نقصان کیا۔ جب جب معاملات عدالتوں میں آئے نقصان ہی ہوا۔ اب مستقبل کےایونٹس کی پلاننگ کی جا رہی ہے اور عید کی چھٹیوں کے بعد آگ بھڑکانے کا پلان ہے۔

انہوں نے کہا کہ آڈیو لیکس سے ماضی کے بہت سے معاملات واضح ہو رہے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت کو گرایا گیا۔ یہ سب عدالت کے کندھے پر ہوا اور ثاقب نثار نے کیا۔ ثاقب نثار کے دور میں ملک میں متنازع فیصلے ہوئے اور ماضی کے ان متنازع فیصلوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انصاف ہونے سے زیادہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا زیادہ اہم ہے۔ پس پردہ چیزوں کا اثر عدالتی فیصلوں پر نہیں آنا چاہیے۔ یہ سارا معاملہ فکسڈ لگتا ہے۔ ادارے کیلیے امتحان ہے وہ فیصلوں کے ذریعے ثابت کرے کیونکہ عدالتوں پر لوگوں کا اعتماد ہی سب سے بڑی چیز ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ قانون سازی پارلیما ن کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ پروسیجر بل دونوں ایوانوں نے پاس کیا اور تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ قانون ناٖفذ ہونے سے پہلے اسے ختم کر دیا گیا۔ عدالتوں کے اندر سے ون مین شو کی آوازیں آئی تھیں، اسی وجہ سے سپریم کورٹ پروسیجر بل لایا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں