امریکہ میں سمندری کچرے میں   گوشت کھانے والا بیکٹیریا دریافت

ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ بحر اوقیانوس کے پار فلوریڈا کی طرف آنے والے سمندری گھاس کے کچرے میں انتہائی مہلک قسم کے  گوشت کھانے والے بیکٹیریا ہو سکتے ہیں۔ نیوز ویک نے رپورٹ کیا کہ سمندری کچرے  کا پانچ ہزار  میل چوڑا جھنڈ سارگاسم سمندری گھاس سے بنا ہے۔ 

فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کی طرف سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سمندری کچرا  کس طرح سمندر میں پائے جانے والے پلاسٹک کے ملبے اور وبریو بیکٹیریا کی انواع کے ساتھ تعامل کرتا ہے، جس سے ‘کامل ‘پیتھوجین’ طوفان’ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سمندری زندگی کے ساتھ ساتھ صحت عامہ دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔مطالعہ کے مصنفین میں سے ایک اور ایف اے یو کے ہاربر برانچ اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوٹ میں حیاتیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ٹریسی منسر پی ایچ ڈی کی طرف سے ایک نیوز ریلیز میں کہا گیا کہ ”پلاسٹک ایک نیا عنصر ہے جسے سمندری ماحول میں متعارف کرایا گیا ہے اور  یہ  لگ بھگ 50 سالوں سے موجود ہے۔”  

انہوں نے کہا کہ خلیج میکسیکو سے افریقی ساحل تک پھیلی ہوئی سمندری غذا کی پٹی نے ان بیکٹیریا کے لیے بہترین افزائش گاہ فراہم کی ہے ۔ یہ بیکٹیریا پودوں اور جانوروں کی زندگی دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ مقامی ٹی وی سٹیشن کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں  نے کہا کہ بلاب ساحل پر پہنچنے اور سوکھنے کے بعد وائبریو بیکٹیریا کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ نے اس کچرے کو چھوا ہے تو فوری طور پر اپنے ہاتھ دھولیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں