سیلاب زدگان کی امداد کے لیے فرانسیسی حکومت نے 3.5 ملین یورو کی امداد کردی

پاکستان میں غذائی قلت کا شکار سیلاب زدگان خواتین اور بچوں کے لیے فرانسیسی حکومت نے اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (WFP) کو 3.5یورو (ایک ارب آٹھ کروڑروپے)دئیے ہیں جس کا ورلڈ فوڈ پروگرام نے خیر مقدم کیا ہے۔

اس فنڈنگ سے ورلڈ فوڈ پروگرام سندھ ا ور بلوچستان میں شدید غذائی قلت کا شکار خواتین لڑکیوں ، پانچ سال سے کم عمر بچوں ، حاملہ خواتین اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین کو مدد فراہم کی جائے گی۔

اگرچہ گزشتہ سال کے بد ترین سیلاب کے بعد پاکستان کے بیشتر علاقوں میں سیلابی پانی کم ہو گیا تاہم اب ملک میں بڑھتے ہوئے افراط زر کی وجہ سے لوگوں کو بڑی مشکل کا سامنا ہے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے ،مہنگائی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں فرانس کے سفیر نکولس گیلے نےورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندوں سے ملاقات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام سے فرانسیسی حکومت کا یہ تعاو ن پاکستان کی عوام  سے یکجہتی کا عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بروقت امداد 2022 کے سیلاب زدگان کے لیے پہلے سے جاری کوششوں کو تقویت فراہم کرے گی۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے 15 اضلاع میں 6 سے 23 ماہ کی عمر کے تقریباً ایک تہائی بچے  غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 14 فیصد شدید غذائی قلت سے متاثر ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر کرس کائے نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام  پاکستان میں غذائیت کے بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا شکار ہے،خواتین اور بچوں میں شدید غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے کیسز خاص طور پر دل دہلا دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرانس کی جانب سے فراہم کردہ امداد سے انتہائی متوسط لوگوں کو زندگی بچانے والی اشیاء فراہم کرنے میں مدد ملے گی جس پر ہم فرانسیسی حکومت کے شکر گزار ہیں۔

اس سے قبل 2022 میں بھی فرانس نے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ خواتین کے لیے ایک ملین یورو جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت سیلاب متاثرین کے لیے دو ملین یورو کی امداد کی تھی۔ فرانس کی جانب سے پاکستان کی  ٹوٹل 6.5 ملین یورو کی امداد  غذائی قلت کا مقابلہ کرنے میں اہم ثابت ہوگی  ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں