امریکی صدر کا یوکرینی کمپنی سے 5 ملین ڈالر رشوت لینے کا انکشاف

 امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی ایک گیس کمپنی بریسما ہولڈنگز کے اعلیٰ عہدیدار سے 5 ملین ڈالر کی خطیر رقم وصول کی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن گیس کمپنی میں ملازمت کر چکے ہیں اور گیس کمپنی کے ایگزیکٹو کے خلاف یوکرینی حکومت کی جانب سے کرپشن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور عہدیدار صدر جو بائیڈن سے کچھ مدد چاہتے تھے کیونکہ کرپشن کے الزامات کی وجہ سے کمپنی سرمایہ کاری نہیں کر پا رہی تھی۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جون 2020 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو ایک ذرائع کے ذریعے بتایا گیا کہ کرپشن لینے کے معاملے میں صدر جو بائیڈن اور ایک غیر ملکی شخص شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس ذرائع نے ایف بی آئی کو امریکی صدر کی کرپشن سے متعلق معلومات فراہم کیں اس نے گیس کمپنی بریسما ہولڈنگز کے ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ 2015 کے بعد متعدد ملاقاتیں کیں جس میں یوکرینی کمپنی کے عہدیدار نے امریکا میں آئل رائٹس اور امریکی آئل کمپنی سے تعلق بنانے سے متعلق خواہش کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کمپنی عہدیدار نے ہنٹر بائیڈن کے کردار کو بورڈ میٹنگ میں واضح کیا اور اس ذرائع نے یوکرینی کمپنی کو مشورہ دیا کہ دونوں بائیڈنز (جو بائیڈن اور ہنٹر بائیڈن) کو 50 ہزار ڈالر فی کس دیے جائیں تاہم ایگزیکٹو نے اس ذرائع کی تصحیح کرتے ہوئے  واضح کیا کہ یہ رقم 50 ہزار ڈالر نہیں بلکہ 5 ملین ڈالر فی کس ہے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرینی گیس کمپنی کے ایگزیکٹو نے ذرائع کو اس بات کی تصدیق کی کہ 50 لاکھ ڈالر صدر جو بائیڈن اور 50 لاکھ ڈالر ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو ادا کیے گئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں